چنتامنی:20 /ستمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز) قرضہ سے تنگ آکر خود کشی کررہے کسانوں ودیگر لوگوں میں اعتماد پیداکرنے اور انہیں خود کشی کے اقدام سے روکنے کی غرض سے محکمہ صحت عامہ کی جانب سے ’’خود کشی کو روکو‘‘کے نام سے مہم چلائی گئی مہم کا آغاز سابق بلدیہ صدر وی۔ایل۔کرشناسوامی نے ہری جھنڈ ی دکھاکر کیا ۔ مہم سے خطاب کرتے ہوئے کرشناسوامی نے کہا کہ انسان کی زندگی میں کبھی خوشی آتی ہے تو کبھی غم، انسانوں کو چاہئے کہ ان دونوں کا مقابلہ کرے۔ کئی لوگ زندگی سے مایوس ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں انسان ہرگیز ایسا نہ کریں انسان تکلیف کو بھی برداشت کرے۔ قدرت نے انسان کو بہت بڑا درجہ دیا ہے لیکن انسان قدرت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے اگر اپنی جان گنوا نے پر آمادہ ہوجائے تو وہ نہ صرف قدرت کی مخالفت کررہا ہے بلکہ انسانیت کو شرمسار کرنے میں مصروف ہے خود کشی بے شک قانون اور قدرت کی نظروں میں جرم ہے بھلے ایک انسان حالات اور مسائل سے تنگ آکر خود کشی کرلیتا ہے لیکن اس فرد کی خود کشی مسائل کا حل نہیں بلکہ خود کشی کے بعد بے شمار گھر یلو مسائل پیدا ہوتے ہیں خود کشی کے بعد ماں باپ بیوی بچے ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کی زندگی ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے ۔
انہوں نے ضلع میں کسانوں کی خود کشی پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ خود کشی کو سماج میں معیوب سمجھنے کے علاوہ خود کشی کرنے والے کو بزدل تصور کیاجاتا ہے حالیہ دنوں میں خود کشی کررہے کسانوں نے قرضے اور دیگر مسائل سے تنگ آکر جس طرح خود کشی کررہے ہیں اس سے کسی بھی مسائل کا حل ممکن نہیں ہوگا ۔انہوں نے تمام کسانوں کے حالات کا خود اعتمادی کے ساتھ مقابلہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بے شک زراعت میں ہوئے نقصان اور قرض داری ایک سنگین صورتحال اختیار کرتی جارہی ہے ان تمام مسائل کے حل کے لئے حکومت اور ضلع انتظامیہ کمر بستہ ہوجانا چاہئے کسانوں کو چاہئے کہ وہ قرضے اور فصلوں کے نقصان کے علاوہ دیگر پریشانیوں کا خود اعتمادی کے ساتھ مقابلہ کریں اور کسی بھی صورتحال میں ضلع انتظامیہ ضلع پنچایت اور محکمہ پولیس سے رجوع ہوکر مسائل سے آگاہ کریں۔ پروگرام میں تعلقہ ہیلتھ آفیسر شرنیواس ریڈی نے بھی خطاب کیا اس موقع پر شہر کی اہم سڑکوں پر مہم کے تعلق سے ریلی نکالی گئی مہم میں شہر کے مہاتماگاندھی اسکول کے طلباء بھی شریک تھے ۔